یاد آؤں تو بس اتنی سی عنایت کرنا
یاد آوں تو بس اتنی سی عنایت کرنا
اپنے بدلے ہوئے لہجے کی وضاحت کرنا
تم تو چاہت کا شاہکار ہوا کرتے تھے
کس سے سیکھا ہے الفت میں ملاوٹ کرنا
ہم سزاٶں کے حق دار بنے ہیں کب سے
تم ہی کہہ دو کہ جرم ہے کیا محبت کرنا؟
تیری فرقت میں یہ آنکھیں ابھی تک تم ہیں
کبھی آنا میری آنکھوں کی زیارت کرنا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں